بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم اسی طرح جیسا کہ آپ کو معلوم ہے حکومت کی جانب سے ابتدائی طور پر جب احساس پروگرام شروع کیا گیا تو احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے ذریعے بڑی تعداد میں لوگوں کو سپورٹ کیا گیا لیکن اس کے بعد حکومت کی جانب سے پالیسی کو تبدیل کیا اور احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کی جگہ پر نئے پروگرام کا آغاز کیا

Ehsaas Rashan 8123 | Ehsaas Kafalat 8171 | Ehsaas 786 | Ehsaas 5566 |

Ehsaas Kafalat Program Online Registration 2022 for Rs. 25000 Click here
786 Check Online Payment Shahbaz Sharif Ehsaas Program 25000 Click here
8171 Program Online Payment Check Click here
BISP Ehsaas Program 20000 Online Check 2023 New Click here
Enter the CNIC and Check the Payment of 786 and 8171 Program Click here
Ehsaas Program 25000 Online Registration 2022 Whatsapp No. Click here
Ehsaas Rashan Program Registration 2023 Online Check Status Click here
How to Check 25000 | Ehsaas Program
How to Check 25000 | Ehsaas Program
How to Check 25000 | Ehsaas Program
How to Check 25000 | Ehsaas Program

لیکن اس کے ساتھ حکومت کی جانب سے ایک حقیقت سے رجسٹریشن اوپن نہیں کی گئی اور حکومت کی جانب سے ایک دن طریقے سے صرف سسٹم آف گیا اور حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ تمام غریب خاندان یہ لے کروائیں تاکہ آپ کی درست معلومات ہے وہ ہم تک پہنچ سکے اور اس کے بعد آپ کو یہاں سے امداد لے سکے تو بڑی تعداد میں حکومت کی جانب سے لوگوں کا سروے کیا گیا

Ehsaas program NSER Check online | Ehsaas NSER Slip payments receive

Ehsaas program NSER Check online

اور اس کے لیے ٹیمیں تشکیل دی گئی انہوں نے بھی بہت زیادہ محنت کی گئی اور ان کی طرف سے کافی مشکلات کے باوجود دور دراز علاقے تھے وہاں سے ڈیٹا اکٹھا کیا گیا اور ڈیٹا اکٹھا ہونے کے بعد حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا آپ کو یہاں سے قیمتی جائے گی لیکن یہاں پر بہت سے لوگوں کو کچھ مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑا کچھ لوگوں کی یہاں پر اعدادوشمار اکھٹے نہیں ہو سکے اور

کچھ لوگوں کے یہاں پر ایسی جو نمبر ان کا اندراج نہیں ہو سکا کیونکہ حکومت کی جانب سے ایک مہم بھی چلائی گئی کہ تمام خاندان یہاں سے شناختی کارڈ بنوانے لیکن لوگوں کے پاس شناختی کارڈ موجود نہیں تھے جس کی وجہ سے بہت سارے مسائل کا سامنا کرنا پڑا لیکن اب حکومت کی جانب سے یہ پالیسی واضح ہے کہ ایسے خاندان کے شناختی کارڈ رکھیں گے

اور وہ حقدار ہے اس پروگرام کے تحت ان کو اس پروگرام کا حصہ بنایا جائے اور ان کو یہاں سے امداد دی جائے گی جب تک آپ کے پاس شناختی کارڈ نہیں ہوگا تب تک حکومت آپ کو کسی بھی پروگرام میں امداد جاری نہیں کرے گی

تو اس لیے کوشش کریں کہ حکومت کی جانب سے جو بھی پروگرام آیا پالیسی آئے سے پہلے آپ اپنا قومی شناختی کارڈ بنوا لیں تاکہ آپ کو بروقت یہاں سے امداد دی جا سکے تاہم حکومت کی جانب سے پرچی رکھنے والے افراد ہے ان کے لیے ایک اہم اعلان سامنے آ چکا ہے وہ آپ کے ساتھ کرتی ہے تاکہ آپ کا یہاں سے وقت ضائع نہ ہو

اور اس کے ساتھ میرے لنک بھی پروائڈ کر دیا ہے اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ یہاں سے آپ کو اس اس کے پروگرام کے بارے میں اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بارے میں تحریری طور پر معلوم ہوجائے تو یہاں پر آپ کو تمام آپشن مل جائیں گے

اور یہاں سے آپ خود جا کر سکتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے کون سا پروگرام چلائے جا رہا ہے اور کون سا پروگرام ہے جس میں آپ کو زیادہ پیسے دیے جا رہے ہیں آپ حکومت کی جانب سے جو این ایس ای آر کی بچی ہے اس کے حوالے سے یہ انوسمنٹ کی گئی ہے کہ اس کابینادی مقصد یہ تھا کہ آپ وہ پرچیاں دی گئی ہے اس میں اگر کسی بھی قسم کی کوئی مسٹیک ہے

وہ آپ درست کروا لے اگر یہاں سے نزدیک درست نہیں کرواتے تو پھر آپ باہر بھی ہو جاتے ہیں اور آپ کی جانچ پڑتال کا مسئلہ بھی حل نہیں ہوتا تو جن لوگوں کے پاس ہیں یہ ہیں ہمیں کوئی مسئلہ ہے تو وہ یہاں سے ٹھیک کروا لے اور اس کے علاوہ جتنے بھی خاندان ہیں جو یہاں پر اپلائی نہیں کر سکتے یہ سر میں شامل نہیں ہو سکے ان سے یہ گزارش ہے کہ اب حکومت کی جانب سے احساس رجسٹریشن سنٹر بحال کیے جارہے ہیں جیسے ہی یہاں سے اپنی رجسٹریشن کروائی اور نئے

طریقے سے اس پروگرام میں شامل ہوجائے پھر حکومت کی جانب سے آپ کو سپورٹ کیا جائے گا اور یہ بتا دی جائے گی لیکن جواب این ایس ای آر کے پارٹی ہے اب اس کے ذریعے پیسے نہیں دیے جائیں گے کیونکہ جو لوگ اہل ہو چکے ہیں ان کو اس پروگرام کا حصہ بنا لیا گیا ہے اور باقی جتنے بھی خاندان ہیں ان کو شامل کر دیا گیا ہے جو اس پروگرام کے حق دار نہیں ہے

For Latest Government and Private Jobs: Click Here

One thought on “Ehsaas program NSER Check online | Ehsaas NSER Slip payments receive”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *